نئی دہلی،29جولائی(ایس او نیوز؍ایجنسی): بی ایس پی کے ایم ایل سی ٹھاکر جے ویر سنگھ کے استعفی پر مایاوتی بھڑک گئی ہیں۔بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے کہا کہ بی جے پی اقتدار کی بھوکی پارٹی ہے،وہ دوسری پارٹیوں کے ممبران اسمبلی، ارکان پارلیمنٹ کو توڑکر جمہوریت کے اقدار کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔مایاوتی نے کہا کہ، منی پور، گوا، بہار، گجرات کے بعد آج اتر پردیش میں ہوا، اسے دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ بی جے پی ملک کی جمہوریت کے لئے خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی غیر آئینی طریقے سے اپوزیشن جماعتوں کی حکومتوں کو گرا رہی ہے اور ممبران اسمبلی کو توڑ رہی ہے وہ جمہوریت کے لئے اچھا اشارہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے منی پور، پھر گوا، اس کے بعد بہار میں مہاگٹھ بندھن کو توڑا، گجرات میں کانگریس ممبران اسمبلی کا استعفی اور اب یوپی میں تین استعفی عکاسی کرتاہے کہ بی جے پی کی وجہ سے جمہوریت خطرے میں ہے۔واضح رہے کہ ایس پی میں 2ایم ایل سی ممبران اسمبلی کے استعفی کے درمیان بی ایس پی کے ایک ایم ایل سی جے ویر سنگھ نے بھی استعفی دے دیا ہے۔اس سے پہلے سنیچر کو ہی ایس پی کے تین ایم ایل سی بکل نواب، یشونت سنگھ نے پارٹی سے استعفی دے دیا ہے۔یہ سب استعفی ایسے وقت پر ہوئے ہیں جب بی جے پی صدر امت شاہ تین روزہ دورے پر ہفتہ کو لکھنؤ پہنچے ہیں۔ذرائع کے مطابق ایس پی کے تینوں لیڈربی جے پی کا دامن تھام سکتے ہیں۔دراصل اس کے پیچھے سب سے بڑی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ صوبے کے اقتدار میں قابض بی جے پی کو اپنی کابینہ کے کئی چہروں کو قانون ساز کونسل میں بھیجنا ہے۔اس کڑی میں وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ، دو نائب وزیراعلی دنیش چندر شرما، کیشو پرساد موریہ کے علاوہ محسن رضا اور سوتنتر دیو سنگھ کے نام شامل ہیں۔کابینہ کا رکن ہونے کی وجہ سے ان کو کسی ایوان کا رکن ہونا ضروری ہے، جو کہ اب یہ نہیں ہیں۔اسی کڑی میں ایس پی کے تین ایم ایل سی کے استعفی کو جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔